16 اشعار

کھویا ہوا گاؤں

Khoyā huā gā'oñ

آئیں گے اک دن پردیس والےاے گاؤں تھوڑے آنسو بچا لے

یاد آ رہے ہیں کھیتوں کے پھیرےگیلی منڈیریں بھیگے سویرے

بادل کے پیچھے سونے کی تھالیتھوڑا سا کاجل تھوڑی سی لالی

پیڑوں کے نیچے دھندلے اجالےمسجد کے اوپر اڑتے کبوتر

پیپل کا سایا مندر کی چھت پرپنگھٹ سے لے کر گھر کی گلی تک

بھولے نہیں ہیں دل کو ابھی تکوہ پھول نیلے تالاب والے

پیپل پہ گونجے کوئل کی کو‌ کوبھیگی ہوا میں مٹی کی خوشبو

امرائیوں میں چرواہے جھومیںریوڑ چرائیں کھیتوں میں گھومیں

لاٹھی اٹھائے چادر سنبھالےگھر کے سویرے باغوں کی شامیں

دل اڑ رہا ہے ٹھنڈی ہوا میںپنگھٹ کا پتھر چھیا رے چھیا

بے تال پانی گہری تلیابیٹھی ہے گوری پیر اپنے ڈالے

چکی پہ آٹا پیسے سہاگنماتھے پہ بندیا ہاتھوں میں کنگن

تھالی کٹورا چوکا رسوئیرہتی ہو جیسے کچھ کھوئی کھوئی

جلتے توے پر انگلی جلا لےلگتا ہے سب کچھ گم ہو گیا ہے

سپنے بچے ہیں من کھو گیا ہےکس گاؤں میں ہوگا اب گاؤں اپنا

جانے نہ کوئی جی کا تڑپنادکھ سکھ کریں ہم کس کے حوالے

— قیصر الجعفری