5 اشعار

اپنی تنہائی کی پلکوں کو بھگو لوں پہلے

Apni tanhai ki palkon ko bhigo loon pehle

اپنی تنہائی کی پلکوں کو بھگو لوں پہلےپھر غزل تجھ پہ لکھوں بیٹھ کے رو لوں پہلے

خواب کے ساتھ کہیں کھو نہ گئی ہو آنکھیںجب اٹھوں سو کے تو چہرے کو ٹٹولوں پہلے

میرے خوابوں کو ہے موسم پہ بھروسہ کتنابعد میں پھول کھلیں ہار پرو لوں پہلے

دیکھنا ہے وہ خفا رہتا ہے مجھ سے کب تکمیں نے سوچا ہے کہ اس بار نہ بولوں پہلے

دوستوں نے مجھے وہ داغ دیئے ہیں قیصرؔوہ بھی آ جائیں تو دروازہ نہ کھولوں پہلے

— قیصر الجعفری