8 اشعار

برسوں کے رت جگوں کی تھکن کھا گئی مجھے

Barson ke ratjagon ki thakan kha gayi mujhe

برسوں کے رت جگوں کی تھکن کھا گئی مجھےسورج نکل رہا تھا کہ نیند آ گئی مجھے

رکھی نہ زندگی نے مری مفلسی کی شرمچادر بنا کے راہ میں پھیلا گئی مجھے

میں بک گیا تھا بعد میں بے صرفہ جان کردنیا مری دکان پہ لوٹا گئی مجھے

دریا پہ ایک طنز سمجھئے کہ تشنگیساحل کی سرد ریت میں دفنا گئی مجھے

اے زندگی تمام لہو رائیگاں ہواکس دشت بے سواد میں برسا گئی مجھے

کاغذ کا چاند رکھ دیا دنیا نے ہاتھ میںپہلے سفر کی رات ہی راس آ گئی مجھے

کیا چیز تھی کسی کی ادائے سپردگیبھیگے بدن کی آگ میں نہلا گئی مجھے

قیصرؔ قلم کی آگ کا احسان مند ہوںجب انگلیاں جلیں تو غزل آ گئی مجھے

— قیصر الجعفری