4 اشعار

چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھا

Chandni tha ke ghazal tha ke saba tha kya tha

چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھامیں نے اک بار ترا نام سنا تھا کیا تھا

اب کے بچھڑے ہیں تو لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیامیرا دل تھا کہ ترا عہد وفا تھا کیا تھا

خودکشی کر کے بھی بستر سے اٹھا ہوں زندہمیں نے کل رات کو جو زہر پیا تھا کیا تھا

تم تو کہتے تھے خدا تم سے خفا ہے قیصرؔڈوبتے وقت وہ جو اک ہاتھ بڑھا تھا کیا تھا

— قیصر الجعفری