8 اشعار

عذاب سا ہے دل نامراد پر کب سے

Azab sa hai dil-e-namurad par kab se

عذاب سا ہے دل نامراد پر کب سےکھڑا ہوں میں روش گرد باد پر کب سے

کبھی ملو گے کہیں تو ملو گے جیتے جیمیں جی رہا ہوں اسی اعتماد پر کب سے

جو باڑھ آئی تو بے چارہ بہہ گیا خود ہیجو بند باندھ رہا تھا فساد پر کب سے

وہ زندگی جو کبھی مڑ کے دیکھتی بھی نہیںمیں مر رہا ہوں اسی بد نہاد پر کب سے

مرے قلم پہ بھی شب خون پڑ گیا آخرمحاصرہ تھا مری جائیداد پر کب سے

میں روشنی کو بھلا دوں تو کیا تعجب ہےبرس رہا ہے دھواں میری یاد پر کب سے

مرے وجود میں کیا شاہکار ہے پنہاںچڑھا رہا ہے زمانہ خراد پر کب سے

تمام شہر سماعت لرز اٹھا قیصرؔنکل پڑی ہے خموشی جہاد پر کب سے

— قیصر الجعفری