7 اشعار

دانشوروں کے بس میں یہ رد عمل نہ تھا

Danishwaron Ke Bas Mein Yeh Radd-e Amal Na Tha

دانشوروں کے بس میں یہ رد عمل نہ تھامیں ایسی تیغ لے کے اٹھا جس میں پھل نہ تھا

کیا درد ٹوٹ ٹوٹ کے برسا ہے رات بھراتنا غبار تو مرے چہرے پہ کل نہ تھا

پتھراؤ کر رہا ہے وہ خود اپنی ذات پرکیا دل کے مسئلے کا کوئی اور حل نہ تھا

شاخیں لدی ہوئی تھیں تو پتھر نہ تھا نصیبپتھر پڑے ملے تو درختوں میں پھل نہ تھا

شب کی ہوا سے ہار گئی میرے دل کی آگیخ بستہ شہر میں کوئی رد و بدل نہ تھا

اب ایک ایک حرف سے چھنتی ہے روشنیتم سے ملے نہ تھے تو یہ حسن غزل نہ تھا

قیصرؔ! ضمیر وقت کو دیکھا کرید کےصدیاں رکھی تھیں دوش پہ مٹھی میں پل نہ تھا

— قیصر الجعفری