6 اشعار

بجتے ہوئے گھنگھرو تھے اڑتی ہوئی تانیں تھیں

Bajte hue ghungroo the udti hui taanen thin

بجتے ہوئے گھنگھرو تھے اڑتی ہوئی تانیں تھیںپہلے انہی گلیوں میں نغموں کی دکانیں تھیں

یوں بیٹھ رہیں دل میں شوریدہ تمنائیںگویا کسی جنگل میں پتوں کی اڑانیں تھیں

یا رب مرے ہاتھوں میں تیشہ بھی دیا ہوتاہر منزل ہستی میں جب اتنی چٹانیں تھیں

وہ لمحۂ لرزاں بھی دیکھا ہے سر محفلاک شعلہ کی مٹھی میں پروانوں کی جانیں تھیں

ہم مرحلۂ غم میں تنہا تھے کہاں یاروقاتل تھے صلیبیں تھیں تیغیں تھی سنانیں تھیں

اک حرف محبت یوں پھیلا کہ گنہ ٹھہراافسانے ہمارے تھے دنیا کی زبانیں تھیں

— قیصر الجعفری