5 اشعار

دل کی آگ کہاں لے جاتے جلتی بجھتی چھوڑ چلے

Dil ki aag kahan le jaate jalti bujhti chhod chale

دل کی آگ کہاں لے جاتے جلتی بجھتی چھوڑ چلےبنجاروں سے ڈرنے والو لو ہم اپنی بستی چھوڑ چلے

آگے آگے چیخ رہا ہے صحرا کا اک زرد سفردریا جانے ساحل جانے ہم تو کشتی چھوڑ چلے

مٹی کے انبار کے نیچے ڈوب گیا مستقبل بھیدیواروں نے دیکھا ہوگا بچے تختی چھوڑ چلے

دنیا رکھے چاہے پھینکے یہ ہے پڑی زنبیل سخنہم نے جتنی پونجی جوڑی رتی رتی چھوڑ چلے

ساری عمر گنوا دی قیصرؔ دو گز مٹی ہاتھ لگیکتنی مہنگی چیز تھی دنیا کتنی سستی چھوڑ چلے

— قیصر الجعفری