9 اشعار

میں پچھلی رات کیا جانے کہاں تھا

Main pichhli raat kya jaane kahan tha

میں پچھلی رات کیا جانے کہاں تھادعاؤں کا بھی لہجہ بے زباں تھا

ہوا گم سم تھی سونا آشیاں تھاپرندہ رات بھر جانے کہاں تھا

ہواؤں میں اڑا کرتے تھے ہم بھیہمارے سامنے بھی آسماں تھا

مری تقدیر تھی آوارہ گردیمرا سارا قبیلہ بے مکاں تھا

مزے سے سو رہی تھی ساری بستیجہاں میں تھا وہیں شاید دھواں تھا

میں اپنی لاش پر آنسو بہاتامجھے دکھ تھا مگر اتنا کہاں تھا

سفر کاٹا ہے کتنی مشکلوں سےوہاں سایہ نہ تھا پانی جہاں تھا

کہاں سے آ گئی یہ خود نمائیوہیں پھینک آؤ آئینہ جہاں تھا

میں قتل عام کا شاہد ہوں قیصرؔکہ بستی میں مرا اونچا مکاں تھا

— قیصر الجعفری