5 اشعار

تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کر

Tu apne phool se honton ko raaigan mat kar

تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کراگر وفا کا ارادہ نہیں تو ہاں مت کر

تو میری شام کی پلکوں سے روشنی مت چھینجہاں چراغ جلائے وہاں دھواں مت کر

پھر اس کے بعد تو آنکھوں کو سنگ ہونا ہےملی ہے فرصت گریہ تو رائیگاں مت کر

چھلک رہا ہے ترے دل کا درد چہرے سےچھپا چھپا کے محبت کو داستاں مت کر

تو جاتے جاتے نہ دے مجھ کو زندگی کی دعامیں جی سکوں گا ترے بعد یہ گماں مت کر

— قیصر الجعفری