6 اشعار

ساری دنیا کے تعلق سے جو سوچا جاتا

Saari duniya ke ta'alluq se jo socha jaata

ساری دنیا کے تعلق سے جو سوچا جاتاآدمی اتنے قبیلوں میں نہ بانٹا جاتا

دل کا احوال نہ پوچھو کہ بہت روز ہوئےاس خرابے کی طرف میں نہیں آتا جاتا

زندگی تشنہ دہانی کا سفر تھی شایدہم جدھر جاتے اسی راہ پہ صحرا جاتا

شام ہوتے ہی کوئی شمع جلا رکھنی تھیجب دریچے سے ہوا آتی تو دیکھا جاتا

روشنی اپنے گھروندوں میں چھپی تھی ورنہشہر کے شہر پہ شب خون نہ مارا جاتا

سارے کاغذ پہ بچھی تھیں مری آنکھیں قیصرؔاتنے آنسو تھے کہ اک حرف نہ لکھا جاتا

— قیصر الجعفری