6 اشعار

ہم نے لکھے تھے ہواؤں میں فسانے اپنے

Hum Ne Likhe The Hawaon Mein Fasane Apne

ہم نے لکھے تھے ہواؤں میں فسانے اپنےاڑ گئے ایک ہی جھونکے میں زمانے اپنے

سونی آنکھوں میں تلاشو نہ وفا کے موتیہم لٹا آئے کہیں اور خزانے اپنے

بند پلکوں پہ یہ کس درد نے دستک دی ہےٹوٹ جائیں نہ کہیں خواب سہانے اپنے

ہم دریچے پہ کھڑے ہو کے کہاں تک سوچیںچاند ہر روز بدلتا ہے ٹھکانے اپنے

کون پروانہ بنے کون جلے کس کے لیےشمع خود بیٹھ کے اب روئے سرہانے اپنے

ہم نے توڑا نہیں ماضی سے تعلق قیصرؔہر نئے شعر میں آنسو ہیں پرانے اپنے

— قیصر الجعفری