6 اشعار

ہم بھی اپنے شہر میں یارو پھرتے تھے فرہاد بنے

Hum Bhi Apne Shehr Mein Yaaro Phirte The Farhad Bane

ہم بھی اپنے شہر میں یارو پھرتے تھے فرہاد بنےکیا کیا عشق رچایا برسوں لکھیں تو روداد بنے

جن آنکھوں کو پڑھتے پڑھتے غزلیں کہنا سیکھ گئےاب ان آنکھوں کے افسانے بھولی بصری یاد بنے

سارے پنچھی پنکھ سمیٹے ڈالی ڈالی بیٹھے ہیںجس کا جی ہو جال بچھائے جو چاہے صیاد بنے

شاہ جہاں کا تاج محل ہو یا جوگی کی کٹیا ہوسپنوں کے ہر روپ نگر کی مٹی ہی بنیاد بنے

غزلیں کہنا سہل نہ جانو یہ لفظوں کا کھیل نہیںبرسوں ہم نے زہر پیا ہے شاعر اس کے بعد بنے

قیصرؔ میری غزلیں آخر کس کے غم میں ڈوبی ہیںجب کاغذ پر لکھ کر دیکھوں ہر نغمہ فریاد بنے

— قیصر الجعفری