7 اشعار

در و دیوار پہ ہجرت کے نشاں دیکھ آئیں

Dar-o-Deewar Pe Hijrat Ke Nishaan Dekh Aayein

در و دیوار پہ ہجرت کے نشاں دیکھ آئیںآؤ ہم اپنے بزرگوں کے مکاں دیکھ آئیں

آؤ بھیگی ہوئی آنکھوں سے پڑھیں نوحۂ دلآؤ بکھرے ہوئے رشتوں کا زیاں دیکھ آئیں

ٹوٹا ٹوٹا ہوا دل لے کے پھریں گلیوں میںکچی مٹی کے کھلونوں کی دکاں دیکھ آئیں

روشنی کے کہیں آثار تو باقی ہوں گےآؤ پگھلی ہوئی شمعوں کا دھواں دیکھ آئیں

جن درختوں کے تلے رقص صبا ہوتا تھاسوکھے پتوں کا برسنا بھی وہاں دیکھ آئیں

اب فرشتوں کے سوا کوئی نہ آتا ہوگاکون دیتا ہے خرابوں میں اذاں دیکھ آئیں

مدتوں بعد مہاجر کی طرح آئے ہیںروٹھ جائے نہ کھنڈر آؤ میاں دیکھ آئیں

— قیصر الجعفری