6 اشعار

عہد جنوں میں بیٹھے بیٹھے جو غزلیں لکھ ڈالی تھیں

Ehad-e Junoon Mein Baithe Baithe Jo Ghazlein Likh Daali Thin

عہد جنوں میں بیٹھے بیٹھے جو غزلیں لکھ ڈالی تھیںہم کو رسوا دنیا بھر کو پاگل کرنے والی تھیں

آنکھوں میں وہ شام کا ٹکڑا اکثر چبھتا رہتا ہےگھر میں آندھی جب آئی تھی شمعیں جلنے والی تھیں

چاند ستارے ٹوٹ رہے تھے خوابوں کی انگنائی میںآنکھ کھلی تو دیکھا گھر کی سب دیواریں کالی تھیں

چٹکی بھر امید نہیں تھی کاسہ لے کر کیا پھرتےشہر وفا کی ساری گلیاں اپنی دیکھی بھالی تھیں

پیار کا موسم بیت چکا تھا بستی میں جب پہنچے ہملوگوں نے پھولوں کے بدلے تلواریں منگوا لی تھیں

قیصرؔ دل کا حال سنا کر جب یاروں کا منہ دیکھاسب کے چہرے سوکھے سوکھے سب کی آنکھیں خالی تھیں

— قیصر الجعفری