8 اشعار

وہی شکست سفر کا نشاں ہے چہرے پر

Wohi Shikast-e Safar Ka Nishaan Hai Chehre Par

وہی شکست سفر کا نشاں ہے چہرے پربہت غبار پس کارواں ہے چہرے پر

نظر اٹھے بھی تو زخموں کی تاب لا نہ سکےیہ آئنہ ہے کہ خنجر رواں ہے چہرے پر

خیال و خواب کے تاجر زباں سے کچھ نہ کہیںلکھی تمام کتاب زیاں ہے چہرے پر

امید و بیم کی اک فصل رائیگاں ہوں میںنظر میں پھول کھلے ہیں خزاں ہے چہرے پر

ملال جاں کی حقیقت کو کیا چھپاؤں میںکہ حرف حرف وہی داستاں ہے چہرے پر

چلو کہ عذر ستم کی بھی قید ختم ہوئیجو اک نقاب تھا وہ بھی کہاں ہے چہرے پر

پھر اس کے بعد بھی شاید ہوا چلی ہوگیجو گرد اڑ کے پڑی تھی کہاں ہے چہرے پر

چھلک رہی ہے دل و جاں کی روشنی قیصرؔبجھی بجھی ہی سہی مہرباں ہے چہرے پر

— قیصر الجعفری