7 اشعار

دشت تنہائی میں کل رات ہوا کیسی تھی

Dasht-e-tanhai mein kal raat hawa kaisi thi

دشت تنہائی میں کل رات ہوا کیسی تھیدیر تک ٹوٹتے لمحوں کی صدا کیسی تھی

زندگی نے مرا پیچھا نہیں چھوڑا اب تکعمر بھر سر سے نہ اتری یہ بلا کیسی تھی

سنتے رہتے تھے محبت کے فسانے کیا کیابوند بھر دل پہ نہ برسی یہ گھٹا کیسی تھی

کیا ملا فیصلۂ ترک تعلق کر کےتم جو بچھڑے تھے تو ہونٹوں پہ دعا کیسی تھی

ٹوٹ کر خود جو وہ بکھرا ہے تو معلوم ہواجس سے لپٹا تھا وہ دیوار انا کیسی تھی

جسم سے نوچ کے پھینکی بھی تو خوشبو نہ گئییہ روایات کی بوسیدہ قبا کیسی تھی

ڈوبتے وقت بھنور پوچھ رہا ہے قیصرؔجب کنارے سے چلے تھے تو فضا کیسی تھی

— قیصر الجعفری