4 اشعار

زلف گھٹا بن کر رہ جائے آنکھ کنول ہو جائے

Zulf ghata ban kar reh jaaye aankh kanwal ho jaaye

زلف گھٹا بن کر رہ جائے آنکھ کنول ہو جائےشاید ان کو پل بھر سوچیں اور غزل ہو جائے

جس دیپک کو ہاتھ لگا دو جلیں ہزاروں سالجس کٹیا میں رات بتا دو تاج محل ہو جائے

کتنی یادیں آ جاتی ہیں دستک دیے بغیراب ایسی بھی کیا ویرانی گھر جنگل ہو جائے

تم آؤ تو پنکھ لگا کر اڑ جائے یہ شاممیلوں لمبی رات سمٹ کر پل دو پل ہو جائے

— قیصر الجعفری