6 اشعار

پیا کرتے ہیں چھپ کر شیخ جی روزانہ روزانہ

Piya karte hain chhup kar Shaikh ji rozana rozana

پیا کرتے ہیں چھپ کر شیخ جی روزانہ روزانہچلے آتے ہیں آدھی رات کو مے خانہ روزانہ

محبت جان بھی دیتی ہے ترساتی بھی ہے یاروکبھی پیمانہ برسوں میں کبھی پیمانہ روزانہ

پریشاں ہوں کنول جیسی یہ آنکھیں چوم لینے دوکہ ان پھولوں پہ منڈلائے گا یہ بھونرا نہ روزانہ

شرابوں کو نہ جانے لوگ کیوں بدنام کرتے ہیںکہ میں تو مر گیا ہوتا اگر پیتا نہ روزانہ

کبھی چلمن اٹھا کر دیکھ تو لو بات مت کرناکہ دل تھامے ہوئے آتا ہے اک دیوانہ روزانہ

کسی دن بزم ساقی سے نکالے جاؤ گے قیصرؔنبھاؤ گے کہاں تک ٹھاٹھ یہ شاہانہ روزانہ

— قیصر الجعفری