7 اشعار

دل بے تب و تاب ہو گیا ہے

Dil be-tab-o-taab ho gaya hai

دل بے تب و تاب ہو گیا ہےآئینہ خراب ہو گیا ہے

ہر شخص ہے اشتہار اپناہر چہرہ کتاب ہو گیا ہے

ہر سانس سے آ رہی ہیں لپکیںہر لمحہ عذاب ہو گیا ہے

جس دن سے بنے ہو تم مسیحاحال اور خراب ہو گیا ہے

ہونٹوں پہ کھلا ہوا تبسمزخموں کی نقاب ہو گیا ہے

سوچا تھا تو عشق تھا حقیقتدیکھا ہے تو خواب ہو گیا ہے

قیصرؔ غم زندگی سمٹ کراک جام شراب ہو گیا ہے

— قیصر الجعفری