6 اشعار

تم سے بچھڑ گئے تو کسی سے ملے نہ ہم

Tum se bichhad gaye to kisi se mile na hum

تم سے بچھڑ گئے تو کسی سے ملے نہ ہممل بھی لئے کسی سے تو جی سے ملے نہ ہم

وہ آنسوؤں کو اپنی ہنسی میں چھپا گیاجس سے گلے ملے تھے اسی سے ملے نہ ہم

برسوں کے بعد آئے تو دنیا بدل گئیاپنی گلی میں اپنی گلی سے ملے نہ ہم

دل کو وہ غم ملا ہے محبت کے نام پراس بے وفا کے بعد کسی سے ملے نہ ہم

کچھ اس طرح سے غم کا نشہ راس آ گیاآئی کبھی خوشی تو خوشی سے ملے نہ ہم

قیصرؔ ہوئی نہ ہم سے دکھاوے کی دوستیکاغذ کے پھول لے کے کسی سے ملے نہ ہم

— قیصر الجعفری