7 اشعار

دن کی بے درد تھکن چہرے پہ لے کر مت جا

Din ki be-dard thakan chehre pe le kar mat ja

دن کی بے درد تھکن چہرے پہ لے کر مت جابام و در جاگ رہے ہوں گے ابھی گھر مت جا

میرے پرکھوں کی وراثت کا بھرم رہنے دےتو حویلی کو کھلا دیکھ کے اندر مت جا

بوند بھر درد سنبھلتا نہیں کم ظرفوں سےرکھ کے تو اپنی ہتھیلی پہ سمندر مت جا

پھوٹنے دے مری پلکوں سے ذرا اور لہواے مری نیند ابھی چھوڑ کے بستر مت جا

کچھ تو رہنے دے ابھی ترک وفا کی خاطرتجھ کو جانا ہے تو جا ہاتھ جھٹک کر مت جا

اور کچھ دیر یہ مشق نگہ ناز سہیسامنے بیٹھ ابھی پھینک کے خنجر مت جا

دھوپ کیا ہے تجھے اندازہ نہیں ہے قیصرؔآبلے پاؤں میں پڑ جائیں گے باہر مت جا

— قیصر الجعفری