6 اشعار

شہر غزل میں دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گا

Shehr-e-ghazal mein dhool udegi fan banjar ho jaayega

شہر غزل میں دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گاجس دن سوکھے دل کے آنسو سب پت جھڑ ہو جائے گا

ٹوٹیں گی جب نیند سے پلکیں سو جاؤں گا چپکے سےجس جنگل میں رات پڑے گی میرا گھر ہو جائے گا

خوابوں کے یہ پنچھی کب تک شور کریں گے پلکوں پرشام ڈھلے گی اور سناٹا شاخوں پر ہو جائے گا

رات قلم لے کے آئے گی اتنی سیاہی چھڑکے گیدن کا سارا منظر نامہ بے منظر ہو جائے گا

دل کی کشتی ایک طرف ہے لاکھوں دعائیں ایک طرفسوکھا تو کیا غم کا دریا چلو بھر ہو جائے گا

قیصرؔ رو لو غزلیں کہہ لو باقی ہے کچھ درد ابھیاگلی رتوں میں یوں لگتا ہے سب پتھر ہو جائے گا

— قیصر الجعفری