8 اشعار

ڈوبنے والو ہواؤں کا ہنر کیسا لگا

Doobne walo hawaon ka hunar kaisa laga

ڈوبنے والو ہواؤں کا ہنر کیسا لگایہ کنارا یہ سمندر یہ بھنور کیسا لگا

پونچھتے جائیے دامن سے لہو ماتھے کاسوچتے جائیے دیوار کو سر کیسا لگا

ہٹ گئی چھاؤں مگر لوگ وہیں بیٹھے ہیںدشت کی دھوپ میں جانے وہ شجر کیسا لگا

در و دیوار ہیں میں ہوں مری تنہائی ہےچاندنی رات سے پوچھو مرا گھر کیسا لگا

اس سے پہلے کبھی پونچھے تھے کسی نے آنسوان کا دامن تجھے اے دیدۂ تر کیسا لگا

سہل تھیں مرحلۂ ترک وفا تک راہیںاس سے آگے کوئی پوچھے کہ سفر کیسا لگا

آنکھ سے دیکھ لیا ترک وطن کا منظرگھر جہاں چھوڑ گئے تھے وہ کھنڈر کیسا لگا

وہ مجھے سن کے بڑی دیر سے چپ ہے قیصرؔجانے اس کو مری غزلوں کا ہنر کیسا لگا

— قیصر الجعفری