7 اشعار

یہ زندگی ہے کہ آسیب کا سفر ہے میاں

Yeh zindagi hai ke aaseb ka safar hai miyan

یہ زندگی ہے کہ آسیب کا سفر ہے میاںچراغ لے کے نکلنا بڑا ہنر ہے میاں

پتہ چلے جو محبت کا درد لے کے چلومرے مکاں کی گلی کتنی مختصر ہے میاں

نہائیں گی مری ضو میں ہزار ہا صدیاںمیں وہ چراغ نہیں ہوں جو رات بھر ہے میاں

تمہاری رات پہ اتنا ہی تبصرہ ہے بہتمکیں اندھیرے میں ہیں چاندنی میں گھر ہے میاں

لکھا ہے وقت نے صدیوں سفر کے بعد اسےیہ دور جھوٹ سہی پھر بھی معتبر ہے میاں

ملے گی راکھ نہ تم کو ہمارے چہرے پربدن میں رہ کے سلگنا بڑا ہنر ہے میاں

اب انتظار کی طاقت نہیں رہی قیصرؔکچھ اور روز نہ سوچا تو سب کھنڈر ہے میاں

— قیصر الجعفری