5 اشعار

زخموں کو مرہم کہتا ہوں قاتل کو مسیحا کہتا ہوں

Zakhmon ko marham kehta hun qatil ko maseeha kehta hun

زخموں کو مرہم کہتا ہوں قاتل کو مسیحا کہتا ہوںجو دل پر گزرا کرتی ہے میں پردا پردا کہتا ہوں

زلفوں کو گھٹائیں کہتا ہوں رخسار کو شعلہ کہتا ہوںتم جتنے اچھے لگتے ہو میں اس سے اچھا کہتا ہوں

اب ریت یہی ہے دنیا کی تم بھی نہ بنو بیگانہ کہیںالزام نہیں دھرتا تم پر اک جی کا دھڑکنا کہتا ہوں

ارباب چمن جو کہتے ہیں وہ نام مجھے معلوم نہیںجس شاخ پہ کوئی پھول نہ ہو میں اس کو تمنا کہتا ہوں

قیصرؔ وہ نوا لا حاصل ہے جو آ کے لبوں پر لہرائےچھو لے جو دلوں کی گہرائی میں اس کو نغمہ کہتا ہوں

— قیصر الجعفری