7 اشعار

ذہن میں کون سے آسیب کا ڈر باندھ لیا

Zehn Mein Kaun Se Aaseb Ka Dar Baandh Liya

ذہن میں کون سے آسیب کا ڈر باندھ لیاتم نے پوچھا بھی نہیں رخت سفر باندھ لیا

بے مکانی کی بھی تہذیب ہوا کرتی ہےان پرندوں نے بھی ایک ایک شجر باندھ لیا

راستے میں کہیں گر جائے تو مجبوری ہےمیں نے دامان دریدہ میں ہنر باندھ لیا

اپنے دامن پہ نظر کر مرے ہاتھوں پہ نہ جامیں نے پتھراؤ کیا تو نے ثمر باندھ لیا

گھر کھلا چھوڑ کے چپکے سے نکل جاؤں گاشام ہی سے سر و سامان سحر باندھ لیا

عمر بھر میں نے بھی ساحل کے قصیدے لکھےمیرے بچوں نے بھی اک ریت کا گھر باندھ لیا

ہار بے درد ہواؤں سے نہ مانی قیصرؔبادباں پھینک کے قدموں سے بھنور باندھ لیا

— قیصر الجعفری