25 اشعار

ایک لمحہ

Ek lamha

میں اپنی زندگی سے ایک لمحے کا سوالی ہوںوہ لمحہ جو مرے نغموں کو چھو کر جاوداں کر دے

مرے دل کو جگا دے روح کے شعلے جواں کر دےنہ آنکھوں میں کوئی صورت نہ کوئی نام ہونٹوں پر

نہ جانے کون ہے جو روح کو بیتاب رکھتا ہےستاروں کی طرح آ کر بکھر جاتا ہے پلکوں پر

نہ جانے کون ہے جو رات بھر بے خواب رکھتا ہےتمہیں دیکھا تو کھل اٹھا مرے خوابوں کا آئینہ

وہی نازک وہی معصوم سا چہرہ نظر آیاتمہارے ہونٹ پر بکھری نظر آئی بہار اپنی

تمہارا حسن اپنی روح کا حصہ نظر آیامحبت جب سمندر بن چکی تو سوچنا کیسا

بہت ممکن ہے ان لہروں میں آ جائے کنارا بھیڈبو دے دو دلوں کو اتنا ظالم ہو نہیں سکتا

یہ طوفاں جو مقدر ہے تمہارا بھی ہمارا بھیتمہاری آنکھ سے ٹپکا نہیں اب تک کوئی آنسو

مرے چاروں طرف طوفان برپا ہے قیامت کامری بیتاب امیدوں کو ٹھکرا دو کہ اپنا لو

تمہارے فیصلے پر فیصلہ ہے میری قسمت کاپرانی ہو چکی ہیں پیار کے قدموں کی زنجیریں

نئے رستے پہ اپنے آپ ہی سب ٹوٹ جائیں گیہمارے سامنے ہوگی محبت کی نئی منزل

ملیں گے ہم تو یہ دنیا کی رسمیں چھوٹ جائیں گییہ کالا آسماں کچھ بھی نہیں دھوکا ہے پل بھر کا

چراغاں ہی چراغاں ایک دن محفل میں ہوتا ہےتڑپ کر روح پہ گرتی ہے یوں بجلی محبت کی

دھواں آنکھوں سے اٹھتا ہے اجالا دل میں ہوتا ہےمچلتا ہے جو دل میں اور ہونٹوں تک نہیں آتا

محبت کی طرح وہ گیت بھی معصوم ہوتا ہےسناتی ہے تمہاری آنکھ جب کوئی حسیں نغمہ

تو مجھ کو وقت بھی ٹھہرا ہوا معلوم ہوتا ہےیہ پیاسے خواب یہ ویران شامیں اور یہ تنہائی

تمہاری روح سے بچھڑا ہوا آوارہ سایا ہوںابھی تک میرے دل کا درد پہچانا نہیں تم نے

جو پلکوں پر نہیں آتے وہ آنسو ساتھ لایا ہوںمحبت جب کسی سنگم پہ ملتی ہے محبت سے

تو ایسی لہر آتی ہے کہ دنیا بھیگ جاتی ہےسلگتی دھڑکنیں پلکوں سے چھن چھن کر برستی ہیں

زباں خاموش رہتی ہے نظر وعدہ نبھاتی ہےتم آنا چاہتی ہو دل کی دھڑکن روک دیتی ہے

یہ کیسی کشمکش ہے پاؤں رکتے ہیں نہ چلتے ہیںنہ اقرار تمنا ہے نہ انکار محبت ہے

یہ کیسے دیپ ہیں ظالم کہ بجھتے ہیں نہ جلتے ہیںمیں اپنی زندگی سے ایک لمحہ چھین لایا ہوں

چرا کر زندگی سے کوئی لمحہ تم بھی لے آؤمرے ہاتھوں میں اک ساز محبت ہے بہت دن سے

بہاروں کا کوئی معصوم نغمہ تم بھی لے آؤہم ان نغموں سے اک بہتا ہوا دریا بنا ڈالیں

بھلا کر ساری دنیا اک نئی دنیا بنا ڈالیںپرایا سا ہے جو لمحہ اسے اپنا بنا ڈالیں

— قیصر الجعفری