9 اشعار

نیلی جلد کی کتاب

Nīlī jild kī kitāb

میرے گھر میں جھونج بنائے گوریا کا جوڑاچونچ میں لے کر آئے جائے بھوسہ تھوڑا تھوڑا

بھوسے میں کچھ تنکے بھی ہیں کچھ مٹیالے پرنیلے پیلے اجلے میلے بھورے کالے پر

باغوں باغوں ہو کر آئے اپنا گھر نہ بھولےپہلے وہ رسی پر بیٹھے پل بھر جھولا جھولے

پھر الماری میں اڑ کر جائے سیدھے اپنے کونےغالب کا دیوان چنا ہے رہنے کو ان دو نے

نیلی نیلی جلد پہ جیسے پھول رکھا ہو کوئییا کاغذ کو رات سمجھ کر چاند اگا ہو کوئی

قسمت والے ٹھہرے ان کے لال گلابی پنجےاردو کا اک شاعر آیا ان کے پاؤں کے نیچے

چاندی جیسے تخت پہ سو کر گزریں راتیں ان کیغالبؔ صاحب سنتے ہوں گے شاید باتیں ان کی

ماضی کی بنیاد پہ رکھا ہے مستقبل سب کاآنے والے دور میں لوگو اٹکا ہے دل سب کا

گوریا کے ان خوابوں کو کیسے توڑا جائےکوئی نسخہ اور منگا لیں اس کو چھوڑا جائے

— قیصر الجعفری