9 اشعار

یہ وہ بستی ہی نہیں

Yeh woh bastī hī nahīñ

زندگی تو مجھے کس موڑ پہ لے آئی ہےخواب کھلتے تھے جہاں برف وہاں چھائی ہے

سو دریچے ہیں مگر شمع کسی پر بھی نہیںچاند نکلے مری راتوں کا مقدر بھی نہیں

کیا کروں کیا نہ کروں ہاتھ میں پتھر بھی نہیںشیش محلوں کو کوئی غم بھی نہیں ڈر بھی نہیں

لوگ گونگے ہیں بیاباں میں اذاں کیسے ہولوگ قاتل ہیں علاج غم جاں کیسے ہو

لوگ پتھر ہیں تو احساس زیاں کیسے ہوکس کو فرصت ہے جو پوچھے کہ میاں کیسے ہو

رات جب ختم ہوئی تھی تو سحر لگتی تھیروشنی راہ گزر راہ گزر لگتی تھی

زندگی کوچۂ جاناں کا سفر لگتی تھیاپنی منزل کہیں جنت کے ادھر لگتی تھی

کچھ بھی آنکھوں میں نہیں اشک ندامت کے سواکچھ بھی دامن میں نہیں داغ ملامت کے سوا

کچھ بھی چہرے پہ نہیں گرد مسافت کے سوااپنی دوکان میں سب کچھ ہے محبت کے سوا

— قیصر الجعفری