7 اشعار

ہم وقت کے الاؤ میں برسوں جلے میاں

Ham waqt ke alāo mein barsoñ jale miyāñ

ہم وقت کے الاؤ میں برسوں جلے میاںلو دل کی راکھ چھوڑ کے ہم بھی چلے میاں

چاروں طرف سے ٹوٹ رہا ہے ہوا کا شوربستی میں اک چراغ کہاں تک جلے میاں

اک دوسرے کے قتل میں ہم سب شریک ہیںپوچھو تو کوئی نام کسی کا نہ لے میاں

دروازہ بند کر کے سلگنا پڑا مجھےکیوں میرے گھر کی آگ سے بستی جلے میاں

کب تک کھڑے رہو گے درختوں کی آڑ میںکیا جانے کتنی دیر یہ آندھی چلے میاں

وہ دن گئے کہ رہتے تھے ہم آسمان پرکٹتی ہے رات ٹوٹی ہوئی چھت تلے میاں

قیصرؔ بھری بہار سے روٹھے رہے بہتاب فصل جا رہی ہے لگا لو گلے میاں

— قیصر الجعفری