8 اشعار

پہلے ذرا محاسبۂ ذات بھی تو ہو

Pehle zarā muhāsiba-e-zāt bhī to ho

پہلے ذرا محاسبۂ ذات بھی تو ہودنیا پڑی ہے گھر سے شروعات بھی تو ہو

سمجھے ہیں سب انا کے دھندلکے کو روشنیشمعیں کہاں جلاؤں کہیں رات بھی تو ہو

پنہاں ہے آنسوؤں میں سراغ شگفت گلصحرائے بے ضمیر میں برسات بھی تو ہو

اک مسئلے کے بعد نیا مسئلہ ہے روزکچھ معتبر یہ گردش حالات بھی تو ہو

چہرے سے دل کا حال پڑھیں اور رو بھی لیںجس سے ملے ہیں اس سے ملاقات بھی تو ہو

مشکل نہیں ہواؤں میں جلنے لگیں چراغشب زاد راستوں میں ترا ساتھ بھی تو ہو

میں تبصرہ کروں نہ خدا کی زمین پرٹھوکر لگے بنا گزر اوقات بھی تو ہو

لمحوں کی مٹھیوں میں ہے صدیوں کی روشنیلیکن نظر میں وقت کی اوقات بھی تو ہو

— قیصر الجعفری