7 اشعار

نظر پڑے تو غزل کے مزاج دانوں کی

Nazar paṛe to ghazal ke mizāj dānoñ kī

نظر پڑے تو غزل کے مزاج دانوں کیہمارے شعر امانت ہیں آسمانوں کی

ہوا چلے نہ چلے لوگ انتظار میں ہیںکھلی ہوئی ہیں ابھی کھڑکیاں مکانوں کی

ترے خلوص کو اب کیا کروں کنارے پرسمندروں میں ضرورت تھی بادبانوں کی

ہزار زخم پرانے ہزار زخم نئےمرے بدن پہ نظر تھی کئی زمانوں کی

پھر اس کے بعد قصیدہ بہار کا لکھنااٹھا کے راکھ تو پھینک آؤ آشیانوں کی

زمین پاؤں کی زنجیر بن نہیں سکتیتھکن مٹے تو وہی رت ہے پھر اڑانوں کی

ہمارے گھر کے اجالے کہاں گئے قیصرؔسسک رہی ہیں لویں اب بھی شمع دانوں کی

— قیصر الجعفری