6 اشعار

ہوا بہت ہے متاع سفر سنبھال کے رکھ

Hawa Bahut Hai Mata-e Safar Sambhal Ke Rakh

ہوا بہت ہے متاع سفر سنبھال کے رکھدریدہ چادر جاں ہے مگر سنبھال کے رکھ

پھر اس کے بعد تو قدریں انہیں پہ اٹھیں گیکچھ اور روز یہ دیوار و در سنبھال کے رکھ

ابھی اڑان کے سو امتحان باقی ہیںان آندھیوں میں ذرا بال و پر سنبھال کے رکھ

یہ عہد کانپ رہا ہے زمیں کے اندر تکتو اپنا ہاتھ بھی دیوار پر سنبھال کے رکھ

پڑھیں گے لوگ انہیں میں کہانیاں تیریکچھ اور روز یہ دامان تر سنبھال کے رکھ

ہوا کے ایک ہی جھونکے کی دیر ہے قیصرؔکسی بھی طاق پہ شمع سحر سنبھال کے رکھ

— قیصر الجعفری