7 اشعار

یہ خواب جو ہم سفر ہیں میرے

Yeh Khwab Jo Hum Safar Hain Mere

یہ خواب جو ہم سفر ہیں میرےقاتل ہیں کہ چارہ گر ہیں میرے

وہ سامنے آسماں ہے لیکنبھیگے ہوئے بال و پر ہیں میرے

میں شمع کہاں کہاں جلاؤںبستی کے تمام گھر ہیں میرے

میرے لئے کتنی دیر روئیںیہ لوگ جو چارہ گر ہیں میرے

یہ شام کہاں سے آ رہی ہےمہکے ہوئے بام و در ہیں میرے

پھیلا تو گروں گا آسماں پرپاؤں ایسی زمین پر ہیں میرے

دریا نے بہت دیا ہے قیصرؔکشتی نہ سہی بھنور ہیں میرے

— قیصر الجعفری