5 اشعار

منتشر ذہن کی سوچوں کو اکٹھا کر دو

Muntashir Zehn Ki Sochon Ko Ikhattha Kar Do

منتشر ذہن کی سوچوں کو اکٹھا کر دوتم جو آ جاؤ تو شاید مجھے تنہا کر دو

در و دیوار پہ پڑھتا رہوں نوحہ کل کااس اجالے سے تو بہتر ہے اندھیرا کر دو

اے مرے غم کی چٹانو کبھی مل کر ٹوٹواس قدر زور سے چیخو مجھے بہرا کر دو

جا رہے ہو تو مرے خواب بھی لیتے جاؤدل اجاڑا ہے تو آنکھوں کو بھی صحرا کر دو

کچھ نہیں ہے تو یہ پندار جنوں ہے کیسرتم کو مل جائے گریباں تو تماشا کر دو

— قیصر الجعفری