6 اشعار

خوابوں کے کسی موڑ پہ دیکھا سا لگے ہے

Khwabon ke kisi mod pe dekha sa lage hai

خوابوں کے کسی موڑ پہ دیکھا سا لگے ہےاپنا نہ سہی پھر بھی وہ اپنا سا لگے ہے

اے شدت گریہ کہیں دل ڈوب نہ جائےیہ درد کا لمحہ مجھے دریا سا لگے ہے

جس موڑ پہ بچھڑے تھے ہمیشہ کے لیے ہمدل ہے کہ اسی موڑ پہ ٹھہرا سا لگے ہے

آنکھوں میں بسی ہے کوئی کھوئی ہوئی خوشبوجس پھول کو دیکھو وہی چہرا سا لگے ہے

برسوں سے کسی کے لیے روئے بھی نہیں ہمکیوں زخم تمنا ہے کہ تازہ سا لگے ہے

تم ڈوبتے سورج کے لیے رؤو ہو قیصرؔکچھ دیر میں سایہ بھی بچھڑتا سا لگے ہے

— قیصر الجعفری