6 اشعار

اس دور کی پلکوں پہ ہیں آنسو کی طرح ہم

Is daur ki palkon pe hain aansu ki tarah hum

اس دور کی پلکوں پہ ہیں آنسو کی طرح ہمکچھ دیر میں اڑ جائیں گے خوشبو کی طرح ہم

بڑھ کر کسی دامن نے بھی ہم کو نہ سنبھالاآنکھوں سے ٹپکتے رہے آنسو کی طرح ہم

کس پھول سے بچھڑے ہیں کہ پھرتے ہیں پریشاںجنگل میں بھٹکتی ہوئی خوشبو کی طرح ہم

اب دن کے اجالے میں ہمیں کون پکارےچمکے تھے کبھی رات میں جگنو کی طرح ہم

ہر موڑ پہ آئیں ترے دامن کی ہوائیںہر چھاؤں کو سمجھے ترے گیسو کی طرح ہم

قیصرؔ ہمیں دنیا نے سمجھ کر بھی نہ سمجھاالجھے ہی رہے کاکل اردو کی طرح ہم

— قیصر الجعفری