8 اشعار

صدیوں طویل رات کے زانو سے سر اٹھا

Sadiyon taweel raat ke zaanu se sar utha

صدیوں طویل رات کے زانو سے سر اٹھاسورج افق سے جھانک رہا ہے نظر اٹھا

اتنی بری نہیں ہے کھنڈر کی زمین بھیاس ڈھیر کو سمیٹ نئے بام و در اٹھا

ممکن ہے کوئی ہاتھ سمندر لپیٹ دےکشتی میں سو شگاف ہوں لنگر مگر اٹھا

شاخ چمن میں آگ لگا کر گیا تھا کیوںاب یہ عذاب در بدری عمر بھر اٹھا

منزل پہ آ کے دیکھ رہا ہوں میں آئنہکتنا غبار تھا جو سر رہ گزر اٹھا

صحرا میں تھوڑی دیر ٹھہرنا غلط نہ تھالے گرد باد بیٹھ گیا اب تو سر اٹھا

دستک میں کوئی درد کی خوشبو ضرور تھیدروازہ کھولنے کے لیے گھر کا گھر اٹھا

قیصرؔ متاع دل کا خریدار کون ہےبازار اجڑ گیا ہے دکان ہنر اٹھا

— قیصر الجعفری