7 اشعار

اتنا سناٹا ہے بستی میں کہ ڈر جائے گا

Itna sannata hai basti mein ke dar jayega

اتنا سناٹا ہے بستی میں کہ ڈر جائے گاچاند نکلا بھی تو چپ چاپ گزر جائے گا

کیا خبر تھی کہ ہوا تیز چلے گی اتنیسارا صحرا مرے چہرے پہ بکھر جائے گا

ہم کسی موڑ پہ رک جائیں گے چلتے چلتےراستہ ٹوٹے ہوئے پل پہ ٹھہر جائے گا

بادبانوں نے جو احسان جتایا اس پربیچ دریا میں وہ کشتی سے اتر جائے گا

چلتے رہیے کہ صف ہم سفراں لمبی ہےجس کو رستے میں ٹھہرنا ہے ٹھہر جائے گا

در و دیوار پہ صدیوں کی کہر چھائی ہےگھر میں سورج بھی جو آیا تو ٹھٹھر جائے گا

فن وہ جگنو ہے جو اڑتا ہے ہوا میں قیصرؔبند کر لوگے جو مٹھی میں تو مر جائے گا

— قیصر الجعفری