5 اشعار

جہاں دھواں تھا وہیں روشنی کے داغ بھی تھے

Jahan dhuan tha wahin roshni ke daagh bhi the

جہاں دھواں تھا وہیں روشنی کے داغ بھی تھےمرے مکان کے ملبے میں کچھ چراغ بھی تھے

ذرا سی دیر میں محفل کو کیا ہوا یا ربابھی تو شام بھی تھی مے بھی تھی ایاغ بھی تھے

زمین بیچ کے رہتے تھے آسمانوں پرمرے بزرگوں میں وہ صاحب فراغ بھی تھے

خدا بھی دیکھ کے چپ تھا کہ میرے دامن میںجہاں گناہ وہیں آنسوؤں کے داغ بھی تھے

جو ہم جلے تو دل و جاں چمک اٹھے قیصرؔبہت دنوں سے یہ ویرانے بے چراغ بھی تھے

— قیصر الجعفری