5 اشعار

مری شکست ترا امتحاں نہ بن جائے

Meri shikast tera imtihan na ban jaye

مری شکست ترا امتحاں نہ بن جائےانا سپرد کرے کاسۂ گدائی بھی دے

وہ ٹوٹتی ہوئی دنیا کا شور ہے یا ربکہ معجزہ ہے جو ایسے میں کچھ سنائی بھی دے

بعید کیا ہے جسے ہم خزاں سمجھتے ہیںبہار بن کے خرابوں کو دل ربائی بھی دے

سر صلیب خموشی مرا طریق نہیںزبان دی ہے تو احساس نے نوائی بھی دے

میں ایسی سر پھری دنیا کو کیا کہوں قیصرؔکہ سنگ راہ بنے طعن نارسائی بھی دے

— قیصر الجعفری