5 اشعار

جو راستے سے بھی گزریں انہیں حبیب رکھوں

Jo raaste se bhi guzren unhein habīb rakkhūn

جو راستے سے بھی گزریں انہیں حبیب رکھوںدیا جلاؤں تو دہلیز کے قریب رکھوں

مرا خلوص پشیماں ہے میری فطرت سےوہ مجھ سے دور کھنچیں میں انہیں قریب رکھوں

کسی کے دل میں جگہ ہو تو بوجھ بانٹوں بھیکہیں زمین نہیں ہے کہاں صلیب رکھوں

کبھی مزاج نہ پوچھوں کبھی لگاؤں گلےمیں زندگی سے مراسم بڑے عجیب رکھوں

بدن سے لو تو اٹھے روشنی تو ہو قیصرؔہوا کے رخ پہ سلگتا ہوا نصیب رکھوں

— قیصر الجعفری