8 اشعار

مجھے کوئی کیوں سمیٹے مری روشنی میں کیا ہے

Mujhe koi kyon samete mirī raushnī mein kya hai

مجھے کوئی کیوں سمیٹے مری روشنی میں کیا ہےوہ چراغ رہ گزر ہوں جو پس سحر جلا ہے

کوئی ایسا حادثہ ہو کہ مجھی کو دفن کر دےجو ترس ترس کے برسے وہ غبار درد کیا ہے

ترے ذہن کا دھواں بھی نہ چھپا سکا وہ منظرجسے کاٹ کر گرایا وہ شجر وہیں کھڑا ہے

مجھے کیا دکھا رہے ہو مرا داغ نارسائیمری جستجو سے پوچھو کوئی راستہ بچا ہے

مجھے ڈر ہے آسماں بھی کہیں زد میں آ نہ جائےتہ خاک جو لہو ہے وہ زمیں کی بد دعا ہے

ترے تیشۂ جنوں سے ہیں لہو لہو چٹانیںارے کچھ تو سوچنا تھا تہ سنگ آئنہ ہے

تجھے بھولنے میں شاید مری عمر بیت جائےتجھے بھولنے سے پہلے مجھے خود کو بھولنا ہے

نہ کہیں کتاب میں ہوں نہ کسی کے دل میں قیصرؔمیں خیال رائیگاں ہوں مجھے کون سوچتا ہے

— قیصر الجعفری