6 اشعار

کاغذ کاغذ دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گا

Kagaz kagaz dhool udegi fan banjar ho jayega

کاغذ کاغذ دھول اڑے گی فن بنجر ہو جائے گاجس دن سوکھے دل کے آنسو سب پتھر ہو جائے گا

ٹوٹیں گی جب نیند سے پلکیں سو جاؤں گا چپکے سےجس جنگل میں رات پڑے گی میرا گھر ہو جائے گا

خوابوں کے یہ پنچھی کب تک شور کریں گے پلکوں پرشام ڈھلے گی اور سناٹا شاخوں پر ہو جائے گا

رات قلم لے کر آئے گی اتنی سیاہی چھڑکے گیدن کا سارا منظر نامہ بے منظر ہو جائے گا

ناخن سے بھی اینٹ کریدیں مل جل کر ہمسائے توآنگن کی دیوار نہ ٹوٹے لیکن در ہو جائے گا

قیصرؔ رو لو غزلیں کہہ لو باقی ہے کچھ درد ابھیاگلی رتوں میں یوں لگتا ہے سب پتھر ہو جائے گا

— قیصر الجعفری