8 اشعار

تری بے وفائی کے بعد بھی مرے دل کا پیار نہیں گیا

Teri bewafai ke baad bhi mere dil ka pyar nahin gaya

تری بے وفائی کے بعد بھی مرے دل کا پیار نہیں گیاشب انتظار گزر گئی غم انتظار نہیں گیا

میں سمندروں کا نصیب تھا مرا ڈوبنا بھی عجیب تھامرے دل نے مجھ سے بہت کہا میں اتر کے پار نہیں گیا

تو مرا شریک سفر نہیں مرے دل سے دور مگر نہیںتری مملکت نہ رہی مگر ترا اختیار نہیں گیا

اسے اتنا سوچا ہے روز و شب کہ سوال دید رہا نہ ابوہ گلی بھی زیر طواف ہے جہاں ایک بار نہیں گیا

کبھی کوئی وعدہ وفا نہ کر یوں ہی روز روز بہانہ کرتو فریب دے کے چلا گیا ترا اعتبار نہیں گیا

مجھے اس کے ظرف کی کیا خبر کہیں اور جا کے ہنسے اگرمرے حال دل پہ تو روئے بن کوئی غم گسار نہیں گیا

اسے کیا خبر کہ شکستگی ہے جنوں کی منزل آگہیجو متاع شیشۂ دل لیے سر کوئے یار نہیں گیا

مری زندگی مری شاعری کسی غم کی دین ہے جعفریؔدل و جاں کا قرض چکا دیا میں گناہ گار نہیں گیا

— قیصر الجعفری