5 اشعار

پھر مرے سر پہ کڑی دھوپ کی بوچھار گری

Phir mere sar pe kadi dhoop ki bochhaar giri

پھر مرے سر پہ کڑی دھوپ کی بوچھار گریمیں جہاں جا کے چھپا تھا وہیں دیوار گری

لوگ قسطوں میں مجھے قتل کریں گے شایدسب سے پہلے مری آواز پہ تلوار گری

اور کچھ دیر مری آس نہ ٹوٹی ہوتیآخری موج تھی جب ہاتھ سے پتوار گری

اگلے وقتوں میں سنیں گے در و دیوار مجھےمیری ہر چیخ مرے عہد کے اس پار گری

خود کو اب گرد کے طوفاں سے بچاؤ قیصرؔتم بہت خوش تھے کہ ہم سایے کی دیوار گری

— قیصر الجعفری