15 اشعار

کھنڈر

Khandar

میں جب بھی تیرے گھر کے پاس سے ہو کر گزرتا ہوںمجھے کھوئی ہوئی رعنائیاں آواز دیتی ہیں

تری یادیں تری پرچھائیاں آواز دیتی ہیںیہ قفل زنگ آلودہ یہ گھر کے بند دروازے

ترے ترک وطن کا دکھ بھرا افسانہ کہتے ہیںمنڈیروں پر یہ لہراتے ہوئے پر ہول سناٹے

شکست خواب کی روداد غم دہراتے رہتے ہیںیہاں ہر شام محرابوں میں اڑتی ہیں ابابیلیں

یہاں پچھلے پہر شبنم کے آنسو روز بہتے ہیںشبیں آ کر گزر جاتی ہیں شمعیں تک نہیں جلتیں

سحر آ کر چلی جاتی ہے آرائش نہیں ہوتیپس پردہ کسی آواز کے گھنگھرو نہیں بجتے

پس چلمن کسی رخسار کی تابش نہیں ہوتیپس دیوار لہراتے نہیں اب ریشمی آنچل

پس روزن نشاط و کیف کی بارش نہیں ہوتیوہ تلخی شدت جذبات نے بھر دی ہے رگ رگ میں

کہ تیرے غم میں رویا ہوں تو خود پر مسکرایا ہوںجو دنیا کھو گئی میں ہوں اسی دنیا میں آوارہ

جو شمعیں نذر طوفاں ہو گئیں میں ان کا سایا ہوںنہ جانے اجنبی بستی میں تیرا حال کیا ہوگا

میں اپنے شہر کی گلیوں میں ہوں لیکن پرایا ہوںدیار غیر میں اب قید ہیں وہ ریشمی جلوے

جنہوں نے میری راہوں میں مہ و انجم بکھیرے ہیںمیں سمجھا تھا مری راتوں میں چمکیں گے ترے عارض

میں سمجھا تھا شہانی چوڑیوں کے گیت میرے ہیںمگر تقسیم نے روحوں کو بھی تقسیم کر ڈالا

یہاں بھی گھپ اندھیرے ہیں وہاں بھی گھپ اندھیرے ہیںمیں جب بھی تیرے گھر کے پاس سے ہو کر گزرتا ہوں

مجھے کھوئی ہوئی رعنائیاں آواز دیتی ہیںتری یادیں تری پرچھائیاں آواز دیتی ہیں

— قیصر الجعفری