8 اشعار

خیال و خواب بن کے میرے ذہن سے لپٹ گئے

Khayal-o-khwab ban ke mere zehan se lipat gaye

خیال و خواب بن کے میرے ذہن سے لپٹ گئےوہ اتنی دور ہو گئے کہ فاصلے سمٹ گئے

صبا ہمیں تلاش کر کے زخم زخم ہو گئیسنا ہے خوشبوؤں کے سارے قافلے پلٹ گئے

تعلقات کا سفر ہے اور تیز دھوپ ہےرفاقتوں کے راستے کے سارے پیڑ کٹ گئے

خراب موسموں کے شور میں خلوص بہہ گیاجو ناخدا بنے تھے اپنی ناؤ لے کے ہٹ گئے

خلا میں اب بدن سنبھالتے رہو تمام عمرکہ حادثے تو پاؤں کی زمین لے کے ہٹ گئے

ادھوری زندگی کو اب لئے پھریں کہاں کہاںکتاب دل سے اس کے نام کے ورق تو پھٹ گئے

وہ آنکھ بھر کے اپنے داغ دیکھتا نہ دیکھتایہ آئنوں کو کیا ہوا کہ سامنے سے ہٹ گئے

نئی صدی سلام کرنے آ رہی تھی جعفریؔچراغ پھینک کر ہمیں گپھاؤں میں پلٹ گئے

— قیصر الجعفری