8 اشعار

کیا کیا چہرے چیخ رہے ہیں یادوں کے انبار تلے

Kya kya chehre chīkh rahe hain yādoñ ke ambār tale

کیا کیا چہرے چیخ رہے ہیں یادوں کے انبار تلےدل پر ایسا بوجھ دھرا ہے جو ہٹنے کا نام نہ لے

اپنی ٹوٹی چھت پر شاید اک دن سورج چمکا تھامٹھی میں کچھ دھوپ چرائے بیٹھا ہوں دیوار تلے

پت جھڑ کے آوارہ جھونکے ان پر ڈیرا ڈالے ہیںجن شاخوں پر بچھڑے پنچھی آ ملتے تھے شام ڈھلے

قسمت ہم کو پھینک گئی ہے تیز ہوا کی راہوں میںدل بھی کیا ہے ایک دیا ہے دیکھیں کتنی دیر جلے

منہ دیکھی باتوں میں یارو کیا رکھا ہے رہنے دوحال ہمارا تم مت پوچھو جاؤ ہم بیمار بھلے

دنیا کا دستور یہی ہے ناقدری کی بات نہیںجو بھی لمحوں کو ٹھکرائے صدیوں اپنے ہاتھ ملے

اپنی اپنی سب کی راہیں اپنا اپنا سب کا سفرتم بھی کسی کے ساتھ چلے ہو ہم بھی کسی کے ساتھ چلے

جانے رستہ بند ہے قیصرؔ یا کوئی پچھتاوا ہےاس نگری سے جو بھی جائے پھر آنے کا نام نہ لے

— قیصر الجعفری